بنگلورو:6؍فروری (ایس اؤ نیوز) مرکزی حکومت کی طرف سے جاری کردہ تین زرعی قوانین کےخلاف پچھلے دوماہ سےسراپا احتجاج بنے کروڑوں کسانوں کی قیادت کرنےو الے کسان تنظیموں کی طرف سے اعلان کردہ 6فروری کے ملک بھر میں ’’چکا جام‘‘احتجاج کا ریاست بھر میں خاصہ اثر دیکھا گیاہے۔ ریاست کے کئی ضلعی و تعلقہ مقامات سمیت اہم شہروں میں کسانوں نے قومی شاہراہ روک کر اپنا احتجاج درج کیا ۔ اس موقع پر کئی مقامات پر پولس نے کسانوں کو اپنی تحویل میں لئے جانےکے واقعات بھی پیش آئے ہیں۔
بنگلورو،یلہنکا کے پولس اسٹیشن سرکل پر کسانوں نے راجیا کبو بلیگارر سنگھا کے صدر کوربور شانت کمار کی قیادت میں ریاستی شاہراہ کو روک کر احتجاج کیا۔ اور مرکزی حکومت کےخلاف نعرے بازی کرتےہوئے اپنی برہمی کا اظہار کیا۔ یہاں قریب 30کسانوں کو پولس نے اپنی تحویل میں لیا۔

ٹمکورو میں بھی مختلف کسان تنظیموں نےمتحدہ طورپر دہلی میں جاری کسان احتجاج کی حمایت کی اور شہر کے گُبّی گیٹ کے قریب احتجاج کرتے ہوئے مرکزی حکومت کے خلاف نعرے بازی کی۔ جائے وقوع پر پہنچی پولس نے یہاں بھی کسان لیڈران کو گرفتار کیا۔بتایا گیا ہے کہ یہاں کے کئی کسانوں کے لیڈس دہلی میں جاری احتجاج میں شامل ہیں جس کی وجہ سے ٹمکور میں احتجاج شدید نہیں تھا۔
کلبرگی میں شہر کے نواحی علاقے کی بنگلورو قومی شاہراہ پر کسانوں نے راستہ روک کر احتجاج کیا۔ اس موقع پر کئی لیڈران نے احتجاجیوں سےخطاب کرتےہوئےمرکزی حکومت کےخلاف سخت تنقید کی اور زرعی قوانین کو واپس لینے کا مطالبہ کیا۔

ہاسن میں مرکزی حکومت کے زرعی قوانین کے واپسی کا مطالبہ لےکر کسان، دلت اور مزدور تنظیموں نے منگلورو۔ بنگلورو قومی شاہراہ روک کر احتجاج کیا۔ اس موقع پر کئی مزدور و کسان سنگھا کے لیڈران موجود تھے۔
بیلگام میں بھارتیہ کرشک سماج، کرناٹکا راجیا رعیت سنگھا سمیت کئی تنظیموں نے زرعی قوانین کو واپس لینےکا مطالبہ کرتے ہوئے دوپہر 12بجے سے 2بجے تک ہیرے باگیواڑی ٹول گیٹ کے قریب پونا ۔ بنگلورو شاہراہ روک کر احتجاج کیا۔ اس موقع پر کرشک سماج کے صدر سدگوڈا مودگی موجود تھے۔

میسور میں بنگلورو نیلگری میں کسان ائیکے ہوراٹا سمیتی کی قیادت میں کسانوں نےاحتجاج کیا۔ یہاں کی شاہراہ پر ہی کسانوں نے کھانا پکانےکے لئے آگےبڑھےتو پولس نے انہیں اپنی تحویل میں لے لیا۔ بیدر، باگلکوٹ ضلع ہنگند تعلقہ ، چامراج نگر ،چک منگلورو، منڈیا،ہوسپیٹ،منگلورو،وجئے پورا، شیموگہ، اور بلاری میں بھی کسانوں اور مزدوروں کی یونین لیڈران اور کارکنان نے قومی شاہراہ روک کر مرکزی حکومت کے خلاف نعرےبازی کرتے ہوئےزرعی قوانین کو رد کرنےکا مطالبہ کیا۔ خیال رہےکہ ملک بھر میں اعلان کئے گئےچکاجام میں دہلی، اترپردیش اور اتراکھنڈ ریاستوں کو شامل نہ کرتےہوئے بقیہ پورے ملک میں چکہ جام کرنے کی اپیل کی گئی تھی۔